عادل اور فاطمہ کا ایک اور روپ

تحریر: عمر حسن

0

فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ ‘ہیلو ہاں؟۔۔۔نا کر یار؟۔۔۔۔جانی میں بس ابھی آیا۔” تین الارم لگائے تھے لیکن وہ نیند کا اس قدر پکّا تھا کہ آواز سناء ہی نہ دی اور اب جو دیکھا تو ساڑے نو بج رہے تھے، یعنی اسائنمنٹ جمع کرانے کے لئے بس آدھا گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔ وہ بھاگ کر واش روم گیا اور جلدی سے سیٹ ویٹ ہو کر گیراج کی جانب دوڑا۔ ”ارے عادل بیٹا ناشتہ تو کرلو”، ماں چلّاء پر وہ بغیر جواب دیے اپنے ہارلے ڈیوڈسن پر سوار ہوا اور کک مار کر روانہ ہو گیا۔

چھے فٹ کا جوان لڑکا،گھنی زلفیں اور چاند سا روشن چہرہ جب کلاس روم میں داخل ہو تو سب نہ سہی لیکن بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز تو ضرور بنتا ہے اور یہی لڑکا اگر کلاس ٹاپر ہو تو سونے پر سہاگہ۔ شان و شوکت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود عادل عاجزی و انکساری کا نمونہ تھا۔ خواہ پڑھائی ہو یہ کھیل کا میدان،کون سا ایسا تمغہ تھا جو اس نے حاصل نہ کیا ہو۔ محلے کے لوگ اپنے بچوں کو تلقین کرتے تھے کہ عادل بھائی جیسا بنو۔ اور تو اور تمام اساتذہ کی شفقت کا مرجع تھا وہ اور سب نہ سہی تو بہت سی لڑکیوں کے خوابوں کا شہزادہ۔

گھر کی گھنٹی بجی اور عادل داخل ہوا۔”ہاں بھئی جوان کہاں سے آ رہے ہو رات کے دو بجے؟” بابا کے پوچھنے پر عادل نے جواب دیا،”کہیں سے بھی نہیں بابا،بس وہ سنبل،ہاجرہ اور شانزے کو بورڈ پوزیشن کی ٹریٹ دینا پینڈنگ تھی تو ان کے ساتھ مصروف تھا۔” ”ہاہا چلو کوئی بات نہیں بس کوشش کیا کرو یار کہ تھوڑا جلدی آ جایا کرو،تمہاری امّاں پریشان ہو جاتی ہیں ”،بابا بولے۔ یہ سن کر عادل نے امّاں کے ذرا لاڈ نکھرے اٹھائے اور انہیں راضی کر کے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ ابھی تو اس نے پیکنگ بھی کرنی تھی۔ آخر صبح جناب اپنے دوستوں اور سہیلیوں کے ہمراہ وادیِ ہنزہ جا رہے تھے۔

خیر۔۔۔۔موج ِ زیست رواں دواں تھی،دن گزر رہے تھے اور سب بہت اچھا جا رہا تھا کہ ایک دن دوپہر تین بج گئے لیکن عادل کی چھوٹی بہن اب تک گھر نہ آئی۔ یونیورسٹی سے عام طور پر وہ فارغ ہو کر دو بجے گھر پہنچ جایا کرتی تھی لیکن حیرت تھی کہ آج ایسا نہ ہوا۔ اوپر سے اسکا فون بند تھا۔ بلآخر چار بجے گھر کی گھنٹی بجی اور دروازہ کھولتے ہی غصّے سے لال پیلا عادل چلّایا،”فاطمہ یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا؟ کہاں سے آ رہی ہو؟۔۔۔کچھ خیال بھی ہے گھر والوں کا؟ ”,عادل کی ایسی ڈانٹ سن کر فاطمہ گھبرا گئی لیکن اس نے اپنے دل کو تسلّی دی کہ بھائی فکر کرتے ہیں اسی لئے ایسا بولے۔ پوچھنے پر فاطمہ نے بتایا کہ وہ ارم کے ساتھ یونیورسٹی سے واپسی پر بازار چلی گئی تھی کچھ کپڑے دیکھنے۔ اسکے فون کی بیٹری ختم ہو چکی تھی اور ٹریفک جام تھی جسکی وجہ سے وہ اطلاع نہ کر سکی۔ عادل بھی اور اسکے امّاں بابا سخت نالاں ہوئے یہ سن کر اور سزا کے طور پر اسے دو دن یونیورسٹی جانے سے روک دیا اور اسکا فون بھی ضبط کر لیا۔

بہر حال،رفتہ رفتہ تمام معمولاتِ زندگی اپنے اوقات پر آ گئے اور سب ہنسی خوشی اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہنے لگے۔ شام کی چائے پر سب اکٹھے بیٹھے تھے کہ فاطمہ نے التجائیہ انداز میں عادل سے اجازت طلب کرنے کی کوشش کی، اپنے کلاس فیلو حسن کی سالگرہ میں شرکت کی۔ وہ جانتی تھی کہ جہاں کبھی کلاس ٹرپ پر جانے کی اجازت تک نہیں ملی وہاں اس بات کی اجازت کیسے مل سکتی ہے لیکن چونکہ حسن نے ساری جماعت کو مدعو کیا تھا،اسی لئے فاطمہ کی بھی شرکت کی خواہش تھی اور وہ اجازت طلب کرنے پر مجبور تھی۔ خیر وہی ہوا جو متوقع تھا۔ عادل بولا، ”فاطمہ! میری پیاری بہن تمھیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شریف لڑکیوں پر سوٹ نہیں کرتا۔ کسی نے تمھیں دیکھ لیا رات گئے ایسی جگہ پر تو گھر کی کیا عزت رہ جائے گی؟ شاباش مجھے پتا ہے میری بہن میرا کہنا ضرور مانتی ہے۔”جی بھائی ”،فاطمہ نے مسکرا کر کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ روز کی اس گھِسی پِٹی روٹین اور ایک کمرے میں بند رہنے سے وہ تنگ آ چکی تھی۔ اسکے بھی ارمان تھے جو شریف گھرانے کے نام نہاد اصولوں کے پیروں تلے چکنا چور ہو رہے تھے، لائف میں تھرل کی شدید کمی تھی۔

ایک بات قابلِ غور ہے کہ شرافت،ذہانت اور عاجزی سے ہٹ کر عادل کا ایک اور روپ بھی تھا جس سے شناسا صرف اسکا بچپن کا یار ہاشم تھا۔ بہار ِ شباب تھی لہٰذا نفس کی ایسی خواہشات تو پھر ہوتی ہیں جو سر ِ عام کرنے سے معاشرے میں عزت کاجنازہ نکل جاتا ہے۔ عزت کے ڈر سے عادل نے کبھی اپنی کلاس فیلوز سے اخلاق سے گری کوئی بات نہ کی تھی۔ پیسہ تو کھلا تھا لہٰذا کبھی کبھار ہاشم اسکی فرمائش پر ڈیلر سے رابطہ کرتا،جو کسی ہوٹل پر عادل کی نفس پروری کے لئے کوئی لڑکی بھیج دیتا۔ اسکے اس فعل سے آگاہ محلے یا گھر والوں میں سے کوئی نہ تھا۔ صرف ہاشم ہی واقف تھا عادل کے خوبرو بدن اور جوان لڑکیوں کے شوق سے۔

کئی ہفتے گزر چکے تھے عادل کو یہ سب کیے۔ اب امتحانات کے بعد فراغت کے دن تھے لہٰذا خواہش ِ نفس نے زور پکڑا اور جناب نے دے فون ہاشم کو گھمایا۔ ” ہاں جگر ذرا اس سے رابطہ کر کے کچھ ارینج تو کروا۔۔۔۔ہاں کل صبح کا ہو جائے تو بیسٹ ہے۔۔۔اوکے اوکے بائے”، یہ کہہ کر عادل نے فون رکھ دیا۔ ڈیل ہو چکی تھی صبح دس بجے پائن ہوٹل کی۔

الارم بجنے سے تو اس نے اٹھنا نہیں تھا لہٰذا متعد دفعہ کال کر کے ہاشم نے بلآخر اسے نو بجے اٹھا دیا۔ پونے دس بجے جناب ہوٹل پہنچ چکے تھے اور کمرہ نمبر ایک سو سولہ کی چابی حاصل کی۔ تمام ضروری معلومات ڈیلر کو بھجواء اور اب وہ سلیپنگ سوٹ پہنے صوفے پر مزے سے بیٹھ کر سگریٹ کے کش لینے لگا۔ ٹھیک دس بجے کمرے کی گھنٹی بجی اور وہ دروازے کی جانب بڑھا۔ ایک گہرا کش لے کر دروازہ کھولا اور فورا زور سے کھانس کر دھواں نکل آیا جب آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں اور زبان سے بلا ساختہ نکلا،” فاطمہ! تم؟؟؟”۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.