پولیس کے وقار کو بحال کیا جائے — تحریر: چوہدری عابد محمود

0

میں اپنے اس کالم میں نو منتخب حکومت کو پنجاب پولیس کو درپیش چیلنجز کے خاتمے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں ، جس سے کرپشن ، بدعنوانی جسے مسائل کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت کو مکمل ختم کرنا ہوگا ، پولیس کو خودمختار ادارہ بنایا جائے تاکہ لوگوں کو حصول انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں ۔ جس طرح پنجاب پولیس کی تذلیل کی جارہی ہے اس کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا۔

ہماری جان ومال کی حفاظت بھی پولیس والے کریں اور تذلیل بھی انہی کی ہو، پولیس کی پوسٹنگ و تعیناتی اور پولیس کے کام میں مداخلت سے سیاست کو مکمل ختم کیا جائے اگر پولیس کارروائی میں کوئی دخل کرے تواسے سخت ترین سز ادی جائے ۔پولیس کو وسائل دیئے جائیں (بہترتنخواہ ، علاقہ کی آبادی کے مطابق نفری کی تعداد ،بہتر انوسٹی گیشن فنڈز اور فنڈزکی بہتر طریقہ سے انوسٹی گیشن آفیسر تک پہنچ ، نادرا اور موبائل کمپنیوں تک رسائی ، پٹرولنگ گاڑی اور انوسٹی گیشن گاڑی کا علیحدہ علیحدہ تھانہ میں ہونا ) اگر پھر بھی کوئی کرپشن کرے تو اسے برخاست کیا جائے اور تمام مرعات ختم کر دی جائیں ، ہر تفتیشی افسر کو ایک لیپ ٹاپ بمعہ ایکسس کوڈ جس سے وہ نادرا، موبائل کمپنیوں تک رسائی ،موبائل لوکیشن کی رسائی حاصل کر سکے اور ان چیزوں کے لئے جگہ جگہ دھکے نہ کھانے پڑیں۔

بے شمار تھانوں پولیس کی نفری کی کمی کا مسئلہ ہے سب سے پہلے کوشش کی جائے کہ نفری کی کمی کوپورا کیا جائے ، اگر فنڈز کی کمی ہے تو جن اضلاع میں نفری زیادہ ہے ان کی نفری کم کرکے ایسے اضلاع کو نفری دی جائے جہاں نفری کم ہے ، اس کے علاوہ پنجاب کنسٹیبلری اور پٹرولنگ پولیس کو متعلقہ اضلاع میں استعمال کیا جائے ، آئے روز گورنمنٹ نئی سے نئی فورس متعارف کروا رہی ہے جس کی تنخواہ ضلع پولیس کی نسبت کئی گنا اضافے کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اور ڈیوٹی 8 گھنٹے (پٹرولنگ پولیس ، سی ٹی ڈی ، ڈالفن فورس، ایس پی یو وارڈن وغیرہ ) ہمارے حکمرانوں نے کبھی بھی ضلع پولیس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، پولیس فورس میں سب سے اہم ضلع پولیس ہے اور سب سے کم وسائل ضلع پولیس کے ہیں ۔

پولیس کے لئے کوئی میڈیکل کی سہولت موجود نہیں اور نہ ہی کوئی پولیس ہسپتال ،کالج ، سکول ، دستکاری سکول وغیرہ ہیں جبکہ زیادہ ڈیوٹی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ بیمار ضلع پولیس کے ہوتے ہیں یاتو ہمارے حکمران پولیس کے لئے سی ایم ایچ کی طرز پر ہسپتال بنائیں، آرمی پبلک سکول ، کانورڈکی طرز پر سکول بنائیں تاکہ محکمہ پولیس کے افسران و اہلکاروں سمیت سوئلین کے بچے بھی بہتر تعلیم حاصل کر سکیں، ان اداروں کے آرمی کے اداروں کے ساتھ الحاق ہو جسے آرمی والوں کو سہولتیں دی جاتی ہے ویسے ہی پولیس والوں کوبھی سہولتیں فراہم کی جائیں ، یا پھر ضلع و تحصیل کے ہسپتالوں میں پولیس ملازمین کے لئے الگ سپیشل کمرے مختص کئے جائیں ، دفتروںمیںچند گھنٹے خدمات سرانجام دینے والے کلرکوں کے پے سکیل 11 اور 24 گھنٹے سخت ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کا پے سکیل 5 یہ کون سا انصاف ہے ؟ ان کے پے سکیل بھی کلریکل سٹاف کے برابر کئے جائیں ۔

پولیس کے پے سکیل بڑھانا اور مراعات دینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو چکے ہیں ، آج کل پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کلرکوں کی بھرتی پر زور دیا جارہا ہے حتیٰ کہ اب تھانوں میں بھی فرنٹ ڈیسک متعارف کروائے گئے ہیں جہاں کلرک بیٹھاے گئے ہیں ، فورس کلرکوں سے نہیں بلکہ سپاہیوں اور جوانوں سے ہوتی ہے پولیس میں کلرک کی بھرتی ہی نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ جب فورس کی ضرورت پڑے گی تو یہ کلرک کسی صورت وردیاں پہن کر خدمات سرانجام نہیںدیں گے، کلرکوں کی جگہ یونیفارم پر سن بھرتی کئے جائیں اور انکی پولیس ٹریننگ کے ساتھ کلرک کی ٹریننگ دی جائے اس سے پولیس کی نفری میں بھی اضافہ ہو گااور خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا، اور ویسے بھی جو محررر ہوتاہے وہ پورا ہیڈ کلرک ہوتاہے ۔

پولیس کی پروموشن اور فنڈز کلرکوں کے ہاتھ میں ہیں جن کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور جو پولیس فورس کی بہت زیادہ تذلیل کرتے ہیں نہ تو پروموشن وقت پر ہو تی ہے اور نہ ہی بروقت فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں اوپر سے پولیس والوں کی مراعات پر کلرکوں نے قبضہ جما رکھا ہے ، (سرکاری موٹر سائیکل بمعہ پٹرول ، سرکاری کولر ، ڈریسنگ الائونس) کلرکوں کو پولیس سے نکال کر دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ضم کیا جائے۔تھانوں میں پولیس اہلکاروںو افسران کی رہائش کے لئے کوارٹر و کمرے بنائیں جائیں پولیس ملازمین کی ڈیوتیاں 8 گھنٹے مقرر کی جائیں ، تھانوں میں رہائش پذیر ملازمین کے لئے لنگر خانے (میس سسٹم ) قائم کئے جائیں جہاں ملازمین کو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق 3 وقت کھانا مہیا کیا جائے تاکہ پولیس کے جوان بیماریوں میں مبتلا ہونے کی بجائے صحت مند رہ سکیں اور ہنگامی حالات میں فرائض سرانجام دینے والے ملازمین کو وہاں مقررہ وقت پر کھانا مہیا کیاجائے تاکہ وہ بہتر طریقے سے خدمات سرانجام دیں سکیں۔جب تک پنجاب پولیس کو مراعات مہیا نہیں کی جائیں گی اس وقت تک پولیس کسی صورت کارکردگی نہیں دے سکے گی۔حکومت کی چاہیے کہ پنجاب پولیس کے مسائل پر توجہ دے، تاکہ پولیس کا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال ہو سکے۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.