Daily updated News, Photo & Vidoes website of Jhelum, Pakistan

ہم عوام کا قصور کیا ہے؟؟ — تحریر: راشدخان

1

آخرہم عوام کا قصور کیا ہے۔۔آخر کب تک عوام با لخصوص ملازمت پیشہ سمیت دیار غیر مقیم پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے رقوم کا اس بے دردی سے ضیاع ہوتا رہے گا؟؟آپ نے دیکھا ہوگا کہ اقتداد کے حصول کے لئے سیاسی چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو کئی کئی حلقوں سے الیکشن کے میدان میں نمودار ہوجاتے ہیں یہی نہیں عوام کے یہ خدمت گار جہاں قومی اسمبلی کے امیدوار ہوتے ہیں وہی صوبائی اسمبلی بھی انہیں اپنے بغیر نامکمل لگتی ہے اور صوبائی حلقوں میں بھی انٹری مار رکھی ہوتی ہے،اب ان متعدد انٹریوں کے پیچھے ہارنے کا خوف ہوتا ہے یا سیٹ چھوڑے جانے والے حلقے کی عوام کا مینڈیٹ مٹی میں ملا،میری سمجھ سے باہر ہے۔۔

عوام جس نے ووٹ ڈالنا ہوتا ہے اس کیلئے قانون ہے کہ وہ ایک ہی ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے جبکہ ایک ہی سیٹ رکھنے اور باقی چھوڑ کر عوام پر بوجھ بننے والا کئی جگہ سے الیکشن لڑ سکتا ہے ۔ہے نا مزے کی بات۔۔یہ ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے اس لئے قارئین اسے ذاتیات سے بالاتر ہوکر پڑھیں اور اپنی قیمتی رائے دیں کیونکہ ایک سے زائد حلقوں سے منتخب ہو کر سیٹیں خالی کرنے کی قدیم روایت میں تمام نامی گرامی سیاسی پارٹیوں کے اراکین شامل رہے ہیں، اور پھر اس ضمن میں عام انتخابات کے بعدضمنی انتخابات کا ہونا اور اس پر دوبارہ ہم عوام کے اربوں روپے خرچ ہونا کسی طور بھی ہم جیسی مقروض قوم کے وارے میں نہیں ہے۔

ایک بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جو بھی نمائندے ایک سے زائد حلقوں سے امیدوارہوتے ہیں ان کے اثاثوں کی مالیت اتنی ہوتی ہے جسکا تصور بھی عام ووٹر کے لئے محال ہے یعنی کروڑوں اربوں کے مالک ہوتے ہیں۔تو کیا ہی بہتر ہو یہ ارب پتی سیاستدان ایک کے علاوہ جب باقی جیتی ہوئی نشستیں ضمنی انتخابات کے لئے چھوڑیں تو ضمنی الیکشن پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم بھی حکومتی خزانے میں جمع کروانے کے پابند ہو۔

اس کار خیر سے جہاں رنگ برنگے ٹیکسوں کی مد میں عوام کے خون پسینے کی محدود کمائی سے اکھٹے کئے گئے پیسے بچیں گے وہی ایک سے زائد سیٹوں سے منتخب امیدوراوں کی جانب سے ملک و قوم سے بے لوث محبت اور عوام کی خدمت کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کے ارادے تقویت ملے گی۔ جب ہر چھوڑے جانے والی سیٹ کے پیسے بھرنے پڑینگے تو امید ہے نصف درجن حلقوں سے کھڑے ہونے والے دو تین حلقوں پر اکتفا کر لیں اس طرح ضمنی انتخابات نسبتا کم سیٹوں پرمنعقد ہونگے اور جن پر ہونگے اس کا خرج بھی جیتنے والے ادا کرینگے۔یقین مانیں ایک بہت بڑا بوجھ عوام کے ناتواں کندھوں سے کم ہو جائے گا۔۔

جہاں اس ضمن میں مجھے آپ سب کی رائے درکار ہے وہی میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارہ قوم و ملک کے وسیعی تر مفاد میں اس اہم نقطے کو زیر بحث لا کر جلد از جلد مکمل قانونی شکل دی جائے ،،بچنے والے ان اربوں روپوں سے پاکستان سمیت ہماری نسلوں کی بقا ء کے لئے انتہائی اہم زیر تعمیر ڈیموں کی تعمیر ی کام میں بہتری آئے گی۔

  1. شعیب چوھان آزاد کہتے ہیں

    بخدمت جناب محترم راشد خان صاحب
    مجھے آپ کی بہت سی تحریر پڑھنے کا موقع ملا۔لیکن یہ موضوع جو آپ نے منتخب کیا ہے یہ واقعی بہت توجہ طلب معاملہ ہے اور شاید آپ وطن عزیز کے پہلے تجزیہ نگار ہیں جس نے تمام تر سیاسی مصلحتوں سے بالا جو ہمیشہ سچ بولنے میں آڑے آتی ہے اس کا آپ نے بلکل خیال نہیں کیا امید ہے کہ عرض پاک کے تمام قلم کار آپ کی پیروی کریں۔
    آپ سے گذارش ہے کہ اس تحریر کا ایک جملہ( ایک ووٹر کو جب ایک الیکشن میں ایک ووٹ کی اجازت ہے تو امیدوار کو بھی ایک حلقے سے الیکشن لڑنے کی پابندی کیوں نہیں)اس پر مزید زور دیں۔شکریہ
    منجانب ۔شعیب چوھان آزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.