تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت ﷺ کیلئے اتحاد امت انتہائی ضروری ہے ۔ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی

0

دینہ: نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد سے دین اسلام کی تکمیل ہوئی ۔تحفظ نامو س رسالت اور تحفظ ختم نبوت ﷺ کیلئے اتحاد امت انتہائی ضروری ہے ۔ غلبۂ اسلام کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا چاہیے ۔عقیدۂ ختم نبوت کا دفاع حقیقت میں دین اسلام کا دفاع ہے ۔ختم نبوت کا انکار دین اسلام کا انکار ہے ۔

ان خیالات کا اظہار سجادہ نشین و جانشین حضرت امیر ملت ،عالمی مبلغ اسلام قائد مشائخ ،مہر الملت حضرت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے جامع مسجد فیضان مدینہ موہال شریف تحصیل دینہ میں جمعتہ المبارک کے روح پرور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا ’’ میں آخری نبی ہوں‘‘ اب ملت اسلامیہ کو کسی بروزی ،ذمی اور جعلی نبی کی ضرورت نہیں ۔ مرزائیوں نے نبوت کے محل پر حملہ کیا۔ تا قیامت قوم مسلم کو راہنمائی تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملتی رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے۔اب کسی نئی شریعت و نئے نبی کی اسلام و شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ۔ عقیدۂ ختم نبوت جانِ ایمان ہے ۔قادیانی پاکستان میں مختلف ہتھکنڈوں سے ملت اسلامیہ میں رخنہ ڈالنے کی ناپاک کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔قادیانی ملک کے دشمن اور ملت کیلئے ناسور ہیں۔ اسی نیک مشن کی ترویج او راسلاف کے روشن کردار کی اشاعت کرتے ہوئے حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے زندگی بسر فرمائی ۔

پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ آج اس معرکہ حق باطل اورحضرت امیر ملت کی مرزاقادیانی کی موت کے حوالے سے پیشگوئی کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور قوت حق کی پے در پے فتوحات کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کا ہر طرف بول بالا ہے اور مرزائی پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جا چکے ہیں ۔جس کا بلاشبہ سہراء حضرت امیر ملت رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے سر ہے لیکن بد قسمتی سے اندرون و بیرون ممالک مرزائیوں کی ریشہ دیوانیوں کا سدِ باب نہ ہو سکا ۔آج پھر مرزائیوں کی ناپاک جسارتوں کا قلع قمع ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں دو قومیں اپنے مذہب کے نام پردنیا میں فتنہ برپا کر رہی ہیں جن میں سے ایک یہودی اور دوسرے قادیانی ہیں ۔ان دونوں گروہوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلہ میں حکومت اور عوام کو دینی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے ۔ حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار تو دے دیا لیکن اُن کے نام اور کام کے حوالے سے مزید قانون سازی نہ ہو سکی ۔ موجودہ دور کے جدید تعلیم یافتہ ذہن اور میڈیا کی یلغار نے نئی نسل کو اس واقع کی اہمیت معلوم ہی نہ ہونے دی اور نہ ہی عہد حاضر کے دانشور اس کے صحیح تناظر کو سمجھ سکتے ہیں اس لئے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ موجودہ دور کی نوجوان نسل کو اس واقعہ اور اس کے پس منظر ،مقاصد ،نتائج و عواقب اور اپنے بزرگوں کی تعلیمات سے روشناس کرانے کیلئے حکومتی سطح پر اہتمام کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.