دین اسلام کا درس یہ ہے کہ باہم اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہا جائے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

0

دینہ: دین اسلام کا درس یہ ہے کہ باہم اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہا جائے،معاشرے میں ایسے اعمال اختیار کیے جائیں جن سے دوسروں کے لیے راحت اور سکون میسر آئے،بد قسمتی سے اب ہم اس درجے کو پہنچ چکے ہیں کہ مسالک کے جھگڑوں کو طول دیکر کفر تک لے گئے ہیں اور اس کی بنیاد کو دیکھا جائے تو وہ صرف اور صرف اپنی انا ہو گی۔

ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان منارہ میں ماہانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ اسلامی کہلاتا ہے لیکن سود کو بھی قانونی حیثیت دی گئی ہے ،کیا ہم سوچ سکتے ہیں جب سودی لین دین ہو گااور کوئی اس کو غلط نہ کہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ معاشرے میں راحت ہو ،کیونکہ امن اور سکون کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے ہم جو بو رہے ہیں وہی کاٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی اپیل ہے کہ اس سودی نظام کو ختم کیا جائے تا کہ معاشرے میں امن اور سکون کی بہاریں آئیںتاکہ معاشرہ حقیقت میں خوشحال ہو،آج دین کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ہے دین کو تو اللہ کی رضا کے لیے بیان کر ناتھا لیکن آج چندے اور روپے کے عوض بیچا جاتا ہے ایسی صورت میں کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ حق ہم تک پہنچے گا۔

یا درہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان ایک ماہ کے دورہ سے کینیڈا ،امریکہ اور برطانیہ سے حال ہی میں وطن واپس پہنچے ہیں، دیار غیر میں بھی آپکے لیکچرز میں خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ذکر قلبی کی عظیم دولت سے فیض یاب بھی ہوئے ،آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی ۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.