اور ہم ریٹائر ہو گئے — تحریر: غضنفر علی اکرام

0

شیکسپیر نے کہا تھا کہ دنیا ایک اسٹیج ہے جس پر آنے والا فرد ایک اداکار ہے جو اپنے حصے کا کردار اداکرتا ہے اور پردے کے پیچھے چلا جاتا ہے یوں انسان زندگی کے اسٹیج پر مختلف لوگ مختلف روپ دھارتے ہیں اور یکے بعد دیگرے قدرت کے لکھے سکرپٹ کے مطابق جانے کتنے ہی کردار ادا کرتے ہیں _ دنیا کے اسٹیج پر محکمہ تعلیم میں ہمارا کردار بس اتنا ہی تھا جو ہم نے 21 اگست 1989 کو بطور ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول مغل آباد تحصیل سوہاوہ سے شروع کیا اور 16 اپریل 2018 کو گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول دھنیالہ سے اختتام پزیر ہوا اور ہم ریٹائر ھو گئے ۔

ویسے تو ساٹھ سال کی عمر تک ابھی جھک مارنے کے لئے نو سال پڑے تھے مگر صحت کے کچھ مسائل ایسے تھے کہ فرائض میں کوتاہی کاخدشہ تھا سو سوچا کہ اب اسٹیج سے اتر جانا مناسب ہے ۔ انتیس سال کے اس سفر میں رنگ رنگ کے طالب علموں سے تو واسطہ رہا ہی مگر بہت اچھے دوست بھی ملے میرے لئے مقام خوشی ہے کہ جو بھی دوست ملے وہ انتہائی مخلص اور غمگسار ہیں جن سے پیار کا رشتہ شائد توڑنے سے بھی نہ ٹوٹے شاگرد بھی اکثر بہت ہونہار اور فرمانبردار ملے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو زندگی کے بیشمار شعبوں میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اس سفر میں اگر کہیں پر خار راستے آے بھی تو اللّه نے کانٹے چننے والا کوئی دوست بھی عطا کر دیا ۔

کوئی بھی سفر کامیابیوں اور ناکامیوں کا امتزاج ہوتا ہے ظاہر ہے ہم بھی اس حقیقت سے ہمکنار رہے لیکن یہ بھی بجا کہ جہاں جہاں کامیابیاں ملیں وو اللّه کریم کا کرم والدین کی دعاؤں بہن بھائیوں کے تعاون اور دوستوں کی بے لوث وفاؤں کا نتیجہ تھیں اور جہاں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا وہ اپنی ہی غلطیوں کا ثمر تھا ۔ دوران سروس جن شخصیات نے بہت متاثر کیا ان میں سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن جناب مسعود الحسن صاحب اور ہیڈ ماسٹر چوہدری مسعود عباس (مرحوم) بہت نمایاں ہیں دوستوں میں راجہ محمد رفیق (ملایشیا) اور ایف جی ہائر سیکندری سکول نیلور کے پرنسپل ڈاکٹر محمد صفدر کیانی نے راستے کی کلفتوں کو بہت سہل کیا ۔۔ گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول دھنیالہ کا اگر ذکر نہ کروں تو ناانصافی ھو گی اس ادارے میں نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ 22 سال تک یہ ادارہ باعزت روزگار کا وسیلہ بھی رہا اپنے اس پیارے سکول کی ترقی کے لئے بہت ٹگ و دو بھی کی اور دعا ہے ۔

پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہم نے پالے ہیں

آخری بات کہ اس دنیا میں کسی بھی ادارے میں کوئی بھی انسان ہر وقت کےلئے ناگزیر نہیں ہوتا لوگ آتے جاتے ہیں اور کائنات کا نظم اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے لہذا ہمارے جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔۔۔

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گےکوئی ہم سا ھو گا

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.