ضلع جہلم کی سیاسی ڈائری — تحریر: سید توقیر آصف شاہ

0

ضلع جہلم میں ملک بھر کی طرح سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ضلع جہلم کی اگر بات کی جائے تو تین خاندان اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت اقتدار میں براجمان نظر آتے ہیں جس میں نمایاں طور پر لدھڑ خاندان، گھرمالہ خاندان اور نوابزادہ خاندان اور ضلع جہلم کی سیاست انہیں خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔

2013ء کے الیکشن میں حلقہ این اے 62 جہلم ون (موجود حلقہ این اے 66) میں مرد ووٹرز 2,08,796 جبکہ خواتین ووٹرز 1,80,655 جو ٹوٹل 3,89,451 رجسٹر ووٹرز تھے۔ پانچ سال کے بعد 2018ء کے الیکشن میں مرد ووٹرز 2,81,136 اور خواتین ووٹرز 2,60,160 جو کے ٹوٹل ووٹرز 5,41,296 ہیں۔ تقریباً 49 فیصد اضافہ کے ساتھ ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار گھرمالہ خاندان کے سربراہ چوہدری خادم حسین نے 1,02,022 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار جٹ برادری کے سربراہ چوہدری ثقلین نے 62,572ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ،لدھڑ خاندان کے سربراہ چوہدری فرخ الطاف نے مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے 36,878 ووٹ حاصل کئے جبکہ راجہ محمد افضل خان نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے صرف 8,080ووٹ حاصل کئے۔ راجہ محمد افضل خان نے 2008ء میں اپنے دونوں بیٹوں کومسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ضلع جہلم سے کامیابی دلوائی تھی۔

حلقہ این اے 66جہلم ون میں جٹ، گجر، راجہ، سید ، بٹ، مرزا، مغل سمیت دیگر برادریوں کی اکثریت ہے۔ اس حلقہ میں تحریک انصاف کے چوہدری فرخ الطاف(جٹ برادری) اور مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری ندیم خادم (گجر برادری) کے درمیان مقابلہ کانٹے دار ہو گا جبکہ آزاد امیدوار چوہدری محمد ثقلین جوموجودہ آزاد امیدواروں کے گروپ خدمت گروپ کے سربراہ ہیں اور سابق تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر اسی حلقہ سے الیکشن لڑ چکے موجودہ الیکشن 2018ء پر خاص اثر انداز ہوں گے اور تحریک انصاف کو ہی نقصان پہنچے گا۔ 2013ء کے الیکشن میں چوہدری محمد ثقلین قومی اسمبلی اور ان کے بھائی کرنل (ر) محمد تاج صوبائی اسمبلی کیلئے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر تھے۔ اس وقت دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ووٹر اور سپورٹر انتہائی انتشار کا شکار نظر آتے ہیں کیونکہ ٹکٹوں کی تقسیم پر دونوں پارٹیاں دھڑے بندی اور گروپنگ کا شکار ہیں۔

اگر ہم موجودہ حلقہ پی پی 25 کی بات کریں تو اس حلقہ کو سابقہ حلقہ پی پی 24،25 کو اب صرف ایک حلقہ پی پی 25کر دیا گیا ہے۔ اس میں گجر برادری کے مہر محمد فیاض ن لیگ کے امیدوار نے 2013ء کے الیکشن میں حلقہ پی پی 25سے 48,510 ووٹ لے کر پہلے نمبر، عابد حسین تحریک انصاف کے امیدوار نے 28,106 ووٹ لے کر دوسری نمبر پرجبکہ آزاد امیدوار چوہدری زاہد اختر نے 12,904ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح حلقہ پی پی 24 میں ن لیگ کے امیدوار راجہ اویس خالد نے 38,386 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ تحریک انصاف کے کرنل (ر)محمد تاج نے 27,640ووٹ لیکر دوسرے نمبر تھے جبکہ آزاد امیدوار راجہ یاور کمال نے 15,727 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ موجودہ دونوں حلقوں کو پی پی 24اور حلقہ پی پی 25کو اب ایک حلقہ پی پی 25کر دیا گیا ہے ، اس میں اب مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر محمد فیاض اور تحریک انصاف کے امیدوار راجہ یاور کمال کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

حلقہ پی پی 25میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سید عرفان امیر شاہ بخاری اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ڈاکٹر قاسم محمود بھی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں اور ان کی ایک منظم الیکشن کمپین مخالفین کو پریشان کر رہی ہے۔ سابق ایم پی اے راجہ اویس خالد کو ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پر راجہ اویس گروپ نے ن لیگ کے دونوں امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ حلقہ پی پی 25میں خدمت گروپ کے آزاد امیدوار مسلم لیگ ن کے سابق یوسی چیئرمین پیل بنے خان راجہ سفیر اکبر بھی میدان میں ہیں جن کوبزرگ سیاستدان راجہ محمد افضل خان، چوہدری ثقلین اور خاموش سپورٹ راجہ اویس خالد کی ہے جو مسلم لیگ ن کے امیدوار کو نقصان پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.