گولپور کے باسیوں کی پانی مانگنے کی سزا ختم نہ ہو سکی، مقدمہ میں نامزد افرادکا کوئی پرسان حال نہیں

0

پنڈ دادنخان (نیر اعوان سے) گولپور پانی مانگنے والے افراد بے یارومدگار ،ایک سو بیس مردو خواتین پر درج مقدمہ نامزد افراد کا کوئی پرسان حال نہیں،احتجاج کو لیڈ کرنے والے بھی خاموش ،نامزد افراد اپنی مدد آپ کے تحت تھانہ کچہری میں پیش، سیاسی قیادت خاموش ۔

تفصیلات کے مطابق پنڈ دادنخان گولپور میں پانی نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا ،احتجاجی مظاہرے میں مبینہ طور پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نثار احمد زخمی ہو گیا اور اس کی مدعیت میں تھانہ پنڈ دادنخان میں ایک سو بیس مرد اور خواتین پر مقدمہ نمبر 147/17 درج کیا گیا جس میں چیئرمین یونین کونسل گولپور ڈاکٹر نصیر ،وائس چیرمین بھی نامزد تھے اور مقدمہ درج ہوا تو بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ مقدمہ سیاسی شخصیت کے کہنے پر درج ہوا ہے اور ہم سے سیاسی انتقام لینے کے لیے یہ کیا گیا۔

مقامی ایم این اے نے بھی مقدمہ کو سیاسی قرار دیا او مقدمہ خارج ہونے کی نوید سنائی مگر ایک سال میں بھی مقدمہ خارج نہ ہوا بلکہ مقدمہ میں نامزد افراد اشتہاری قرار ریے جانے لگے تو احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرنے والے بھی اپنی ضمانت کرا کر ایک طرف ہو گئے باقی بچ جانے والے غریب اپنی مدد آپ کے تحت تھانہ کچہری میں پیش ہو کر مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں۔

معروف سماجی رہنما یوسف ناز نے کہا کہ گولپور میں آج بھی پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو ااور اپنے حقوق کے آواز بلند کرنے والوں کو ریاستی جبر کا سامنا ہے، اس بنیادی ضرورت پر بھی سیاست کی جا رہی ہے اور سیاسی بنیادوں پر ہی پانی کی تقسیم ہو رہی ہے۔ گولپور کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں اور غریب عوام کو پانی کے حصول کے لئے سڑکوں پر انا پڑانرومی ڈھن پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں مگر پانی کی بجائے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.