حلقہ پی پی 27 میں سیاسی گہما گہمی شروع — تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

پی پی 27 میں کسی حد تک سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے اور متوقع امیدوار اپنی بھر پور لابنگ بھی شروع کر چکے ہیں ، روایتی سیاسی طور طریقوں کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت اب ترقیاتی کاموں پر توجہ دے رہی ہے نہر اور چک نظام پل کی منظوری کے چرچے بھی عام ہیں ۔

اب تک کی اس سیاسی لابنگ میں سید شمس حیدر سب سے زیادہ متحرک نظر آرہے ہیں اور اپنے لیے ایک مظبوط ڈھڑا بنانے کی بھر پور کوشش میں ہیں ِ۔ ان کوششوں کے اثرات ملے جلے ہیں اور کچھ نا کچھ پیش رفت بھی مل رہی انہیں۔ پی پی ستائیس کی ایک اور مظبوط سیاسی شخصیت چوہدری عابد جوتانہ جو یہ تو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ہر حال میں اس الیکشن میں حصہ لیں گے لیکن ابھی تک وہ کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دے سکے ، جس کی وجہ سے ان کے سپوٹران میں کچھ بے چینی پائی جاتی ہے۔

چوہدری عابد جوتانہ کا ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اس حلقے کے مسائل تب ہی حل ہو سکتے کہ ایم این اے کا تعلق پنڈدادن خان سے ہو اس سے لگتا کہ شاید وہ ایم این اے کی سیٹ پر بھی آسکتے۔ یاد رہے کہ اس حلقے میں چوہدری عابد جوتانہ ایک مظبوط ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی کی طرف سے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل نہیں سامنے ا سکا جو ان کو کسی نا کسی حد تک سیاسی طور پر نقصان دے رہا ہے۔

راجہ شاہ نواز جو اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے لیے سب سے زیادہ مظبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں اب تک بھی عوامی رابطے کے حوالے سے کچھ زیادہ متحرک نہیں ہیں، اس بات کا شکوہ تحریک انصاف کے کارکن بھی کرتے نظر آتے ہیں ٰحالانکہ وہ ایک مظبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں ۔ لیکن عوام سے یہ دوری ان کے لیے انتخابات میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔

حاجی ناصر للِہ بھی اس حلقے کے لیے ایک قابل ذکر شخصیت ہیں اور سیاسی طور پر بہت متحرک بھی ہیں اور ان کا ڈیرا ہر وقت آباد ہے عوام سے برائے راست رابطے میں جس کی وجہ سے للِہ سے لے کر گول پور تک وہ اپنا ووٹ بنک بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن پنڈدادن خان سے جلال پور شریف تک کے ایرے میںوہ ابھی تک بہت حد تک عام ووٹر کے لیے اجنبی ہیں اور اس ایریا میں ان کا اثر و رسوخ بہت کم ہے، جلال پور سے پنڈدادن خان تک کے علاقہ میں حاجی ناصر کو ابھی کام کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان اس حلقے میں کانٹے دار مقابلے کی امید کی جا رہی ہے لیکن یہ دونوں بڑی سیای جماعتیں اس حلقے کے حوالے سے صوبائی سیٹ کے لیے گومگو کا شکار ہیں۔ بھیلوال سے تعلق رکھنے والے راجہ فاروق بھی اس حلقے سے ایم پی اے کی سیٹ پر مقابلہ کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں اور وہ بھی ایک مظبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔

راجہ فاروق، راجہ شاہ نواز، حاجی ناصر تینوں کا تعلق پی پی ستائیس کے اس علاقہ سے جو اس پسماندہ ترین تحصیل کا سب سے پس ماندہ علاقہ ہے اور یہاں کے لوگ اج بھی پانی جیسی سہولت سے محروم ہیں بہت حد تک ن لیگ جو پچھلے کئی سالوں سے یہاں سے مسلسل کامیاب ہوتی رہی ووٹر کو مطمئن کرنا ایک مشکل امر ہوگا۔

موجودہ ایم پی اے چوہدری نذر گوندل جن کی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے ۔ لیکن عوامی رابطے میں وہ سب سے اگے نظر آتے اپنے حلقے کے عوام کے دکھ سکھ میں شرکت کے حوالے سے وہ سب سے اگے ہیں ۔ ان کا دوسرا مظبوط پہلو ان کا مظبوط ڈھڑا ہے جو ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اگر انفرادی طور پر پی پی ستائیس کے امیدواروں کا جماعتی وابستگی سے ہٹ کر جائزہ لیا جائے تو موجودہ ایم پی اے چوہدری نذر گوندل سب سے مظبوط نظر آتے اس حلقے سے اب تک سیاست میں صورت حال بدلتے دیر نہیں لگتی۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.