کیئر ٹیکرز جہلم

تحریر: چوہدری سہیل عزیز

0

جہلم میں ایک فلاحی تنظیم جس نے بہت ہی کم مدت میں بہت ہی زیادہ فلاحی پروجیکٹ کیے،اس تنظیم میں اکثریت نوجوانوں کی ہے بالخصوص طالب علموں کی، یہ علامہ اقبال کے شاہین حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے پسے ہوئے طبقے کی خدمت کررہے ہیں اور ہر ملک گیر مہم جس سے وطن عزیز کی بہتری ہو اس میں یہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں شجر کاری مہم میں بھی ان کا نمایاں حصہ تھا۔

ہر ضرورت مند اور مصیبت زدہ کی مدد کرنا ان کا شیوہ ہے راقم الحروف کی ملاقات ان مسیحاؤں سے اپنے ایک محترم ساتھی مرزا اصغر کی وساطت سے ہوئی جب یہ لوگ ایک ذہنی معذور لڑکے کو اپنے ساتھ لے کر میرے میڈیا آفس آئے،اور فلاحی ادارہ اپنا گھر میں اس کی رہائش کے لیے میری راہنمائی حاصل کی،یہ مٹھی بھر نوجوان میرے وطن عزیز کا مستقبل ،اپنے سینے میں پاکستان کا در د لیے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ابھی اکثریت تو ان میں سے فارغ التحصیل بھی نہیں ہوئی اور ان کا عزم اس وقت قابل دید ہوتا ہے۔

جب یہ کسی پروجیکٹ کے لیے چندہ اکٹھا کرتے ہیں تو یقین کریں کہ چند منٹوں میں خطیررقم جمع ہو جاتی ہے اور جو اس وقت وٹس ایپ گروپ میں آف لائن ہوتے ہیں ان کی دلی کیفیت کا اضطراب بھی محسوس کیا جاسکتا ہے اور ان کی تشنگی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ کس حد تک اس نیک کام سے محروم رہنے پر اضطراب میں مبتلا ہیں ،خدمت کا جذبہ ہو تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔

ان نوجوانوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ یہ صرف سوچنے کی بجائے عملی طور پر کچھ کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا نعرہ ہے ہمیں فنڈ کی ضرورت نہیں،ہم کیئرٹیکرز ہیں ،جب اللہ کی ذات پر یقین ہو جائے تو پھر ہر چیز کا بندوبست رب کریم کی ذات کرتی ہے،خود بخود منزل کے لیے راستے کھلتے جاتے ہیں،میر اسفند اسد ایک ایسا نوجوان ہے جس نے اپنے ہی ہم عمر دوستوں سے ملکر اور چند بڑوں کی دعاؤں کے سائے میں کیئر ٹیکرز کے نام سے اس تنظیم کی ابتداکی ،ہر قسم کی نمود و نمائش سے بیگانہ یہ جوان ہر وقت خدمت کے جذبے سے سرشار دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

راقم الحروف آج اس نوجوان سوشل ورکر کی سماجی خدمات سے متاثر ہو کر چند سطریں رقم کرنے کا اعزاز حاصل کر رہاہے،میر اسفند اسد اور اس کے ساتھی جس سوچ کے ساتھ فلاح انسانیت کے لیے کام کررہے ہیں اگر ہمارا طالب علم اور ہمارا نوجوان اسی راہ پر اسی سوچ کے ساتھ گامزن ہو جائے تو پاکستان کی سسکتی ہوئی انسانیت اور مصیبت زدہ لوگوں کی آہ بھی کوئی نہ سن سکے،جس انداز سے یہ لوگوں کے دکھ چنتے ہیں اور مدد کرتے ہیں ان کا طریقہ کار ایسا ہے کہ کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو۔

سپریم کورٹ سے آسیہ کیس کے فیصلہ میں موت کی سزا ختم ہونے پر جو رد عمل سامنے آیا اس نتیجہ میں جہلم میں بھی جی ٹی روڈ اور ریلوے ٹریک بند کر دیئے گئے ایک ٹرین جو کہ ریلوے سٹیشن پر ایک دن سے بھی زیادہ وقت کے لیے رکی رہی اس میں سوار چھ سو کے قریب مسافروں کی مدد کے لیے کیئر ٹیکرز ایک بار پھر بازی لے گئے اور اپنی استطاعت کے مطابق دن را ت اپنے ان پاکستانیوں کی خدمت کی ،ان کے لیے ناشتے کھانے کا اہتمام کیا۔

جہلم کے نوجوانوں کا یہ گلدستہ خدمت کے جذبہ سے سرشار ہر وقت تیار رہتا ہے اور خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ،اللہ ان کو ان کی ان نیک کاوشوں پر اجر عظیم عطافرمائے۔آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.