علوم عصریہ کے ساتھ علوم دینیہ کی اشد ضرورت ہے۔ مولانا عبدالحنان صدیقی

0

جہلم: دنیاوی علوم کے حصول کے ساتھ مذہبی ودینی علوم کا حصول ہر مسلمان پر ضروری ہے،دینی علوم کی کمی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بچوں میں ادب اوربڑوں میں شفقت کا فقدان نظر آرہا ہے اخلاقی طور پر معاشرہ تباہ ہو چکھا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ملک کے نامور خطیب مولانا عبدالحنان صدیقی نے بمقام سکھا جہلم میں منعقدہ سیرۃ النبیﷺ کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم پرہی دنیا، قبر اور آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے والدین جہاں پر بچوں کو مہنگے داموں اشیاء کپڑے گاڑی موبائل ودیگر ضروریات فراہم کرتے ہیں انکا یہ بھی فریضہ ہے کہ بچوں کو اعلیٰ اخلاق اور پیارے نبیﷺ کی سیرت مبارکہ سے روشناش کرایا جائے گانابجانے کے آلات ودیگر لغویات سے انکے مستقبل کو تاریک نہ بنایا جائے۔

انکا کہنا تھا قرآن صرف ثواب کی کتاب نہیں بلکہ یہ راہ ہدایت ہے پڑھنے اور عمل کرنے کے لئے نازل ہواہے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کہ جو والدین کروٹ بدلنے پر تمہارے لئے دعائے خیر کرتے تھے انکو راحت پہنچاؤ انکی خدمت کو سعادت سمجھ کر خوشی سے انکی خدمت کرو غربت کی وجہ سے اپنی رشتہ داروں کے ہاں رشتے سے منہ نہ پھیرا کرو رشتہ دار راضی ہونگے تو اللہ راضی ہو جائیگا غرباء کے گھروں کو آباد کرو علماء وحفاظ کے خلاف زبان درازی سے بچو علماء انبیاء کے وارث ہیں ایسا نہ ہو کہ کل میدان حشر حضورﷺ کے سامنے شرمندہ ہوں پیارے نبی کریم ﷺکی مبارک سنتوں کو اپناؤ۔

کانفرنس سے مولانا قاری ابوبکر صدیق مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم ودیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ نعتیہ کلام پیش کرنے کی سعادت معروف نعت خواں شاہد عمران عارفی ،حافظ ظہیر حافظ ریاست علی نے حاصل کی۔

کانفرنس میں شیح الحدیث مولانا ظفراقبال،مولانا عبدالودود ،مولانا عبدالواحد ،قاری خالق داد ،مولانا قاضی واجد حسین،مولانا محمد اسحاق فاروقی،مولانا بصیر احمد ،مولانا رشید احمد،مولانا عبدالستار، مولانا نیاز احمد ،مولانا حسین احمد،مولانا سجاد محمود،قاری شہزاد ودیگر مقامی علماء کرام اورعوام نے کثیر تعداد میںشرکت کی جبکہ دعائیہ کلمات کی سعادت مولانا عبدالقدوس اعوان نے حاصل کی۔

کا نفرنس کے موقع پر شرکاء کے لئے سیکورٹی اور طعام کا بھی بہترین انتظام کیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر مدرسہ حنفیہ تعلیم القرآن کے مدیر قاری حکیم شبیر احمد عثمانی نے تمام آنے والے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.