بی ایچ یوز میں زچہ بچہ کی تعداد رسمی طریقے سے پوری کی جا رہی ہے ۔ عوامی سماجی حلقے

0

پڑی درویزہ: یونین کونسل ،تحصیل اور ضلع کی حدود کے اندر 24/7بی ایچ یو ز میں زچہ بچہ کی تعداد رسمی طریقے سے پوری کی جارہی ہے ۔ صوبائی وزیر صحت ، سیکریٹری صحت پنجاب اور نگرانی کرنے والی این جی اوز کو صورت حال کا نوٹس لینے کے لیے عوامی سماجی حلقوں کا مطالبہ ۔

علاقہ بھر کے سیاسی عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبائی محکمہ صحت کی طرف ہر تحصیل اور ضلع میں کچھ بنیادی مراکز صحت کو ہفتہ کے سات دن کے لیے کھلے رہنے کا پابند کیا گیا ہے تا کہ عوام کو بچوں کی پیدائش کی سہولت ہر وقت مفت فراہم کی جاسکے ۔

اطلاعات کے مطابق 24/7کی سہولت کے لیے منتخب کردہ ہر بنیادی مرکز صحت کو ماہانہ 48سے 55بچوں کی پیدائش کے اندراج کا ہدف دیا جاتا ہے اور ہسپتال انتظامیہ یہ تعداد رسمی طور پر پوری کر دیتی ہے جو کہ حقائق کے بالکل منافی ہے جب مقرر کردہ تعداد پوری نہیں ہوپاتی تو صرف بی سی جی انجیکشن لینے والے بچوں کی پیدائش بھی ہسپتال میں درج کر دی جاتی ہے۔ عوام کی اکثریت نجی شعبہ کو ترجیحی دیتی ہے ۔

سماجی حلقوں کے مطابق بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کا فقدان ، دور دراز کی سفری مشکلات ، بجلی اور دیگر ہنگامی صورت میں طبی سہولیات کے ناکافی ہونے جیسے مسائل آڑے آتے ہیں بعض بی ایچ یو ایسے مقامات پر قائم ہیں جہاں دن کے وقت پر بھی سفر کرنا محال محسوس ہوتا ہے چہ جائے کہ رات کو خاتون مریض کو ایسے مقامات تک لے جایا جاسکے ۔مذکورہ مسائل کی وجہ سے 24/7کے حوالے سے مخصوص بنیادی مراکز میں دوران ماہ صرف 7تا 10تک بچوں کی پیدائش کے معاملات کیے جاتے ہیں باقی تمام سلسلہ رسمی طور پر پورا کر دیا جاتا ہے ۔

یہ بات ہر سینئر ، تحصیل اور ضلع کی سطح تک کے افسران کے علم میں ہے ۔اس تمام صورت حال کے متعلق علاقہ بھر کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی وزیر صحت ، صوبائی سیکریٹری صحت پنجاب نیز متعلقہ این جی اوز ( غیر سرکاری تنظیمیں) کو مکمل تحقیق کرنی چاہیے کہ فی بچہ پیدائش کے اخراجات میرٹ کے مطابق ادا کیے جا سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.