جہلم میں نجی میڈیکل سٹور کے مالکان کی غفلت نے نوجوان کی جان لے لی، مقدمہ درج

0

جہلم: محکمہ صحت کے ذمہ داران کی عدم دلچسپی، میڈیکل سٹورز مالکان نے پرائمری پاس افراد کو ادویات فروخت کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دیں، نجی میڈیکل سٹور کے مالکان کی غفلت ، چند کوڑیوں کی خاطر بغیر ڈاکٹری نسخے کے ادویات فروخت کردیں، پروفیسر کالونی کا رہائشی نوجوان سسک سسک کر جان کی بازی ہار گیا، جاں بحق ہونے والا نوجوان ،بوڑھی ماں کا واحد کفیل اور بہن کا سہارا تھا ، متاثرہ بہن حصولِ انصاف کے لئے تھانے پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی ڈھیل کی وجہ سے بااثر میڈیکل سٹور مالکان نے پرائمری اور مڈل پاس نوجوانوں کو ادویات فروخت کرنے کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں، جس کے باعث گزشتہ ماہ شہر کے مشہور معروف میڈیکل سٹور کے مالکان نے ایک نوجوان سے جینے کی سانسیں چھین لیں۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ میڈیکل سٹور کے ذمہ داران نے ، ڈاکٹری نسخے کے بغیر 100 نشہ آور زہریلی گولیاں نوجوان کو تھما دیں ، جاں بحق ہونے والے نوجوان کی ہمشیرہ (ع) دخترملک محمد اشرف سکنہ پروفیسر کالونی جہلم نے تھانہ سول لائن میں درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میرا اکلوتا بھائی محمد اسماعیل جو ڈپریشن کا مریض تھا۔

مورخہ 4 ستمبر2018 بوقت تقریبا 11 بجے رات میرے بھائی کی اچانک طبیعت بگڑ گئی اور اسے قے آنا شروع ہو گئی جسے فوری طبی امداد کے لئے ہم نے اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم میں لے گئے، میرے بھائی کے ہاتھ میں Kemadrin Tablets کی ڈبیہ تھی جو میرے بھائی نے کھا رکھیں تھی ، مورخہ 8 ستمبر2018 کو میں اپنے بھائی کے کمرہ میں گئی تو مجھے کمرہ سے نجی میڈیکل سٹور تحصیل روڈ جہلم کی رسید مورخہ 3 ستمبر2018 کی ملی ۔

رسید کے مطابق100 گولیاں Kemadrin میرے بھائی نے بغیر ڈاکٹری نسخہ کے خریدیں اور میرے بھائی کے کمرہ سے ایک لیٹر بھی ملا جس پر لکھا تھا کہ میں 100 گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر رہاہوں ، مذکورہ میڈیکل سٹور سے Kemadrin جیسی خطرناک گولیاں جن کے ریپر پر نمایاں Poison (زہر) لکھا ہوتاہے ، میرے بھائی کو بدوں ڈاکٹری نسخہ کے فراہم کیں جو میرے بھائی کی موت کی وجہ بنی ، تھانہ سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ۔

اس سلسلہ میں میڈیکل سٹور کے مالکان اگر اپنا موقف دینا چائیں تو ان کا موقف بھی من و عن شائع کیا جائیگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.