کھیوڑہ شہر میں سلاٹر ہاؤس نہ ہونے کی وجہ سے گلی محلوں میں مذبح خانے کھل گئے

0

پنڈدادنخان: کھیوڑہ شہر میں سلاٹر ہاؤس نام کی کوئی چیزموجود نہیں ہے قصابوں نے گلی محلوں میں مذبح خانے بنارکھے ہیں جبکہ میونسپل کمیٹی کھیوڑہ کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر من پسند لوگوں کو سلاٹر ہاوس کے نام پر لاکھوں روپے کاٹھیکہ بھی دے رکھا ہے، ٹھیکے دار قصابوں سے فی جانور ٹیکس لے کر خاموش جبکہ وٹنری ڈاکٹر اور عملہ دفتروں تک محدود، مادہ،بیمار، لاغر ،سستے داموں خریدے گئے جانور وں کا گوشت مہنگے داموں فروخت ،دوکانوں پے صفائی کے ناقص صورتحال،پانی ملاگوشت،غیر تسلی بخش اوزان کے ساتھ ساتھ گوشت کو فروخت سے قبل انتظامیہ کی جانب سے چیک کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے،ڈی سی جہلم ایکشن لیں ۔عوامی مطالبہ

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ شہر میں گلی محلوں میں سلاٹرہاؤس کھل گئے گھروں میں فروخت کے لیے جانوروں کو ذبح کرنے کا سلسلہ جاری ہے گلیوں کی نالیوں میں جانوروں کا خون اور گندگی کے ڈھیر تعفن اور بیماریاں پھیلانے لگے شہر میں نا تو کوئی سلاٹر ہاوس ہے اور نا ہی فروخت کے لیے ذبح کیے جانے والے جانورں کو چیک کرنے کا کوئی نظام ہے سلاٹر ہاوس موجود ناہونے کے باوجود میونسپل کمیٹی کھیورہ کی انتظامیہ نے ملی بھگت سے من پسند افراد کو لاکھوں روپے کی عوظ سلاٹر ہاوس کے نام پر ٹھیکہ دے رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹھیکے دار شہر بھر کے قصابوں سے فی جانور پچاس روپے مذبح وصول کرتا ہے بھاری تنخواوں پر تعینات وٹنری ڈاکٹر کی جانب سے قیمت فروخت کی مناسبت سے صحت مند جانوروں کی پڑ تال کا کوئی نظام نہیں وٹنری ڈاکٹر اور عملہ دفتروں تک محدود کوئی بازاروں میں آکر عوامی شکایات دور کرنے کے لیے تیار نہیں انہی وجوہات کی بنا پر قصاب حضرات نے جہاں گوشت مہنگے داموں فروخت کر نا وطیرہ بنا لیا ہے وہی بیمار لاغر جانور سستے داموں خرید کر گھروں میں ذبح کر کے دوکانوں میں سجا کر فروخت کر نا معمول بنا لیا ہے۔

مقامی عوامی سماجی حلقوں نے ذمہ دار انتظامیہ سے اپیل کی ہے گھروں میں قائم سلاٹر ہاوس بند کیے جائیں اور صحت مند جانوروں کے گوشت، صفائی ،اوران کی پڑتال کے نظام سمیت سرکاری نرخ ناموں پر پابندی ممکن بنائی جائے۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.