ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو برابر مقام دینا چاہیے ، سی ٹی آئز کو مستقل کیا جائے۔ ندیم شہباز، پروفیسر افتخار محمود

0

پڑی درویزہ: وزیر اعلیٰ پنجاب انصاف ہو نا چاہیے ،سکولوںمیں ایجوکیٹرز کو مستقل کیا جاسکتا ہے تو کالجوں میں بہترین تجربہ کے حامل سی ٹی آئز کیوں مستقل نہیں ہو سکتے ؟۔پنجاب کالج ٹیچنگ انٹرنز مستقلی تحریک کے بانی پروفیسر ندیم شہباز ، پروفیسر افتخار محمود اور دیگر کا مشترکہ سوال ۔

تفصیلات کے مطابق اخباری ہواؤں کے مطابق پورے صوبہ پنجاب میں 2012ء سے بھرتی سکول ایجوکیٹرز کو مستقل کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں اس سکیم سے صوبہ بھر میں دو لاکھ سکول اساتذہ مستفید ہونے کی توقع ہے ۔

اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کی سطح پر نو سال سے جاری کالج ٹیچنگ انٹرنشپ پروگرام کے تحت لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کی خالی آسامیوں پر تدریسی خدمات دینے والے پنجاب کالج ٹیچنگ انٹرن کی گزشہ سالوں سے جاری مستقلی تحریک کے رہنما پروفیسر راجہ ندیم شہباز ، کنوینئرپروفیسر افتخار محمود اور دیگر نے ایک مشترکہ بیان میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو متوجہ کر تے ہوئے سوال کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کا مطلب کیاہے۔ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو برابر مقام دینا چاہیے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر پورے صوبے میں دو لاکھ سکول ایجوکیٹر مستقل کیے جاسکتے ہیں تو ہائر ایجوکیشن کی سطح کئی کئی تعلیمی سیشن کا تدریسی تجربہ کے حامل کو بھی مستقل کیوں نہیںکیا جاسکتا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے 750کالجوں میںاس وقت 6000سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔کالج اس وقت ویران دکھائے دیتے ہیں ہر کالج میں دوسے تین تک مستقل اساتذہ موجود ہیں اگست 2018ء سے نو سال سے جاری کالج ٹیچنگ انٹرن کی بھرتی کا انتظار ہے لیکن تا حال کوئی کرن نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ہائر ایجوکیشن کے میدان میں بھی انقلاب کی بنیاد رکھتے ہوئے تمام ایک سال سے زائد تدریسی تجربہ کے حامل سی ٹی آئز کو مستقل کرتے ہوئے کالجز میں پائی جانے والی ویرانی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.