Daily updated News, Photo & Vidoes website of Jhelum, Pakistan

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی 75%نمبر حاصل کرنیوالے طالبعلموں کو مفت تعلیم دینے کے نام پر دو نمبری پکڑی گئی

پرائیویٹ تعلیمی ادارے مخصوص نشستوں کی آڑ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات سے بھاری فیسیں بٹور رہے ہیں ۔ محمد وسیم قریشی

0

جہلم: پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی 75%نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں کو مفت تعلیم دینے کے نام پر دو نمبری ،75%یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طالب علم جب پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کے حصول کے لیے رجوع کرتے ہیں تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان یہ کہہ کر ٹرخا دیتے ہیں کہ مخصوص نشستیں تھیں جو پُر ہو چکی ہیں لہذا آپکو رعایتی فیس پر داخلہ مل سکتا ہے اس طرح پرائیویٹ تعلیمی ادارے مخصوص نشستوں کی آڑ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات سے بھاری فیسیں بٹور رہے ہیں ،والدین ایسے تعلیمی اداروں سے ہوشیار رہیں۔

ان خیالات کا اظہار معروف سینئر صحافی سابق جنرل سیکرٹری محمد وسیم قریشی نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ، جہلم پریس کلب کے سینئر نائب صدر محمد قریشی نے کہا ہے کہ جو مفت تعلیم کا جھانسا دیکر سادہ لوح طلبا و طالبات اور انکے والدین کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں تو بچوں کا زہن ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی راغب ہو جاتا ہے، مخصوص نشستوں کا کوٹا ختم ہونے کا کہہ کر طلباء و طالبات سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جہلم سمیت ضلع بھر میں بااثر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کی لوٹ مار پورے عروج پر ہے اس طرح سوچی سمجھی سازش کے تحت کروڑوں روپے سالانہ کمانے والے یہ ادارے تعلیم فروش اداروں میں تبدیل ہو چکے ہیں انکا مقصد صرف نوٹ کمانا ہے یہ تعلیمی ادارے بورڈز میں اول ،دوم آنے والے طالب علموں کو مفت تعلیم کا لالچ دیکر اپنے اداروں میں بھاری فیسوں کے عوض داخلے دیتے ہیں اور اس طرح جو بچے ہزار سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں انکے لیے مخصوص اساتذاہ کو لگا کر آئندہ بورڈز میں پوزیشن حاصل کر کے عام لوگوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بورڈز میں نمایاں پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات اور ہولڈنگ بورڈ لگا کر بچوں اور والدین کو اپنے تعلیمی اداروں کی طرف راغب کرتے ہیں اور ان سے بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں ، محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کو چاہیے کہ ایسے تعلیم فروش اداروں کیخلاف کاروائی عمل میں لائیں اور ان سے آمدن کے زرائع معلوم کر کے ان پر ٹیکس عائد کریں تاکہ قومی خزانے کو بھی ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے فائدہ حاصل ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.