سول ہسپتال جہلم میں کروڑوں کے اخراجات کے باوجود سی ٹی سکین چالو نہ ہو سکی

0

جہلم: سول ہسپتال میں کروڑوں کے اخراجات کے باوجود سی ٹی سکین چالو نہ ہو سکی، نیورو سرجن کی بھی موجیں ، مفت کی تنخواہ کھانے لگا، ہر زخمی کو راولپنڈی ریفر کرنا مشغلہ بنا لیا، پرائیویٹ سی ٹی سکین والوں کی لوٹ مار عروج پر۔

جہلم شہر کے مرکزی سول ہسپتال میں انتظامیہ کی غفلت اورلاپرواہی کے باعث ہسپتال کا بیڑہ غرق ہوتا جارہا ہے سابق دور حکومت میں چار سالوں کی جدو جہد کے بعد سی ٹی سکین مشین کی فراہمی کے بعد ان کی تنصیب کیلئے درجنوں وارڈز کو توڑ پھوڑ کر جگہ بنائی گئی جس پر کروڑوں روپے کے اخراجات ہوئے لیکن اب تک سی ٹی سکین کی سہولت مریضوں کو نہیں مل سکی۔

مشین کی تنصیب اور چالو کرنے کا کام تقریبا بند پڑا ہے جبکہ ہسپتال میں تعینات نیورو سرجن بھی مشین نہ ہونے کے بہانہ بنا کر ہفتہ میں دو دن صرف حاضری لگانے آتا ہے اور مفت کی تنخواہیں کھا رہا ہے ۔

اس حوالے سے معلوم ہو اہے کہ ہسپتال کے باہر سی ٹی سکین مافیا سے ملنے والے فوائد سے مستفید ہونے کیلئے سرکاری مشین چالونہیں کی جارہی جبکہ نجی مشین مالکان چند سو روپے خرچ والی رپورٹ بھی ہزاروں روپے میں فراہم کرتے ہیںجبکہ نجی سی ٹی سکین مشینوں کی لوٹ مار افورڈ نہ کرسکنے والے مریضوں کو راولپنڈی کا راستہ دیکھا دیا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال میں بھاری مشینری یا تو بند پڑی ہے یا عملہ نے جان بوجھ کر خراب کر رکھی ہے جس کا مقصد نجی اداروںکو نوازنا اور اپنا حصہ وصول کرنا ہے ہسپتال انتظامیہ نے مشین کی تنصیب کے کام کی بندش بارے کوئی موقف دینے سے انکار کیاہے ۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.