پی پی ستائیس کا ضمنی معرکہ

احتشام اشرف ملک

0

ضلع جہلم کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی ستائیس میں ضمنی الیکشن چودہ اکتوبر کو ہو رہے ہیں۔ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فواد چوہدری نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ فواد چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصر محمود کو شکست دی تھی۔ فواد چوہدری نے ان انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے سڑسٹھ سے بھی کامیاب ہوئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے فواد چوہدری کو وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ جس کی وجہ سے فواد چوہدری نے صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی۔

ضمنی انتخابات میں اس مرتبہ پی پی ستائیس میں پاکستان تحریک انصاف نے راجہ شاہنواز علی خان کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے انکے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصر محمود ہیں۔

راجہ شاہنواز کا تعلق تحصیل پنڈدادنخان کی یونین کونسل احمد آباد کے مشہور سیاسی گھرانے سے ہے۔ آپ سابقہ ایم پی اے راجہ ناصر علی خان مرحوم کے بھتیجے ہیں جو کہ دو مرتبہ اس حلقے سے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ راجہ شاہنواز نے دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں بطور آزاد امیدوار پہلی مرتبہ حصہ لیا۔ آپ یونین کونسل احمد آباد کے چیئرمین بھی ہیں۔

دوسری طرف ناصر محمود کا تعلق تحصیل پنڈدادنخان کی یونین کونسل للِہ سے ہے۔ حالیہ انتخابات میں آپ نے تحریک انصاف کے امیدوار فواد چوہدری کو کافی ٹف ٹائم دیا اور تقریباً ساڑھے سترہ سو ووٹ سے فواد چوہدری کو کامیابی ملی۔ناصر محمود کامیاب کاروباری اور سماجی شخصیت ہیں۔ آپ کی اپنے علاقے کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

حالیہ عام انتخابات میں پی پی ستائیس کے ٹکٹ کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے راجہ شاہنواز فیورٹ تھے۔ انکے علاوہ فواد چوہدری، چوہدری عابد جوتانہ، طاہر آصف چوہدری، راجہ افتخار شہزاد وغیرہ ٹکٹ کے متمنی تھے مگر قرعہ فال فواد چوہدری کا نکلا۔مگر یہ سارے لوگ پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اوراپنے امیدوار کی بھر پور طریقے سے انتخابی مہم چلائی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سب سے بڑا دھچکا اسوقت لگا جب سابقہ ایم پی اے اور ممکنہ امیدوار چوہدری نذر حسین گوندل نے ٹکٹ کیلئے اپلائی نہیں کیااور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فواد چوہدری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کیلئے ابھرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک عرفان اعجاز نے بھی اپلائی کیا ۔ ملک عرفان اعجاز کا تعلق کھیوڑہ کے نامور کاروباری ، سیاسی و سماجی خاندان سے ہے۔ انکے ساتھ علاقہ جالب سے چوہدری افتخار نے بھی ٹکٹ حاصل کیلئے کافی تگ و دو کی۔ مگر پارٹی نے ٹکٹ ناصر محمود کو دے دیا۔ جن کو ٹکٹ دلوانے میں سابقہ ایم این اے نوابزادہ مطلوب مہدی کا اہم کردار ہے۔

اگر ہم ماضی میں اس حلقہ کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہے کہ اس حلقہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پلڑہ بھاری رہا ہے۔ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ستانوے سے تک یہ حلقہ پی پی بائیس تھا۔ مگر دو ہزار دو کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہو کر پی پی ستائیس ہو گیا۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں اس حلقہ سے آزاد امیدوار راجہ ناصر علی خان مرحوم انتیس ہزار آٹھ سو ستاون ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ۔ انیس سو نوے کے انتخابات میں دوبارہ راجہ ناصر علی خان مرحوم چھیالیس ہزار دو سو ستاون ووٹ لیکر کامیاب ہوئے مگر اس دفعہ آپ آئی جی آئی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔

انیس سو ترانوے کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوابزادہ سید شمس حیدر انتیس ہزار ایک چھیاسٹھ ووٹ لیکر جیتے ۔انیس سو ستانوے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوابزادہ سید شمس حیدراکتالیس ہزار دو سو پچپن ووٹ لیکر فاتح قرار پائے۔ اکتوبرانیس سو ننانوے میں میاں نواز شریف صاحب کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ جس کے بعد اکتوبر دو ہزار دو میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اب یہ حلقہ تبدیل ہو کرپی پی ستائیس ہو گیا۔

دو ہزار دو کے انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری نذر حسین گوندل تتیس ہزار چار سو تتیس ووٹ لیکر پہلے ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چوہدری عابد جوتانہ تیس ہزار تین سو انہتر ووٹ لیکر دوسرے اور آزاد امیدوار راجہ ناصر علی خان مرحوم سولہ ہزار تین سو انچاس ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر آئے۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوابزادہ سید شمس حیدر سنتیس ہزار پچہتر ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری نذر حسین گوندل نے بتیس ہزار نو سو گیارہ ووٹ لیے اور تیسرے نمبر پر پی پی پی کے میجر (ر) فیض احمد فیض نے بیس ہزار چار سو انیس ووٹ لیے۔

دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امید وار چوہدری نذر حسین گوندل انچاس ہزار انہتر ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری عابد جوتانہ نے پچیس ہزار پانچ سو چھیاسی ووٹ حاصل کیے جبکہ آزاد امیدوار راجہ شاہنواز نے بائیس ہزار چھ سو سنتیس ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر آئے۔

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے فواد چوہدری نے سٹر سٹھ ہزار تین ووٹ لیکر کامیابی سمیٹی ، دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصر محمود نے پینسٹھ ہزار دو سنتیس ووٹ لیے۔ تحریک لبیک کے راجہ محمد فاروق پندرہ ہزار ایک سو تنتیس ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔

پی پی ستائیس میں ضمنی الیکشن کا میدان سج چکا ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں اپنے اپنے امید واروں کو کامیاب کروانے کی تگ و دو میںہیں اس حلقہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے اچھی خبر ہے کہ سابق ایم پی اے چوہدری نذر حسین گوندل واپس اپنی پارٹی میں آگئے ہیں۔ لاہور میں چوہدری ندیم خادم کے ساتھ انکی میاں حمزہ شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر پٹرولیم سرور خان کا حالیہ دورہ کھیوڑہ بھی پی پی ستائیس میں ضمنی الیکشن کا حصہ ہے وفاقی وزراء سے ملاقات میں کثیر تعداد میں لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

ضمنی انتخابات سے چند روز پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے بری خبر انکی جماعت کے صدر میاں شہباز شریف صاحب کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری ہے۔ کیونکہ انکی گرفتاری سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز ، سپورٹرز اور انکی انتخابی مہم متاثر ہوگی۔

پی پی ستائیس میں اس مرتبہ بھی کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ دونوں جماعتیں انکے لیڈرز، ووٹرز، سپورٹرز اپنے اپنے امیدوار کے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ جیت کس کی ہوگی اس کیلئے چودہ اکتوبر تک انتظار کرنا پڑے گا۔

احتشام اشرف ملک (چکوال) 03005691114

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.