مستقبل کے معماروں کی حق تلفی کیوں؟

تحریر: احسان شاکر

0

تعلیمی عمل میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیاں بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ماضی میں ان سرگرمیوں کو غیر نصابی سرگرمیاں کہا جاتا رہا مگر بدلتے دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ان کو ہم نصابی سرگرمیوں کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان سرگرمیوں کی بدولت نصاب کی تکمیل ناصرف آسان ہوجاتی ہے بلکہ طلبا وطالبات پر اس کے مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں جو انھیں آنے والی زندگی میں ایک کامیاب انسان بننے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت کے پیش نظردنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات کے مابین مختلف مقابلہ جات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ان مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے جاتے ہیں جن سے طلبا وطالبات کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے اور ہر آنے والے سال میں ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری بھی آتی ہے۔

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی گزشتہ طویل عرصے سے مختلف ناموں سے مختلف مقابلہ جات کا اہتمام کیا جاتا رہا ۔ تحصیل،ضلع،ڈویژن اور صوبہ کی سطح پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباوطالبات کو شاندار تقریبات منعقد کرکے انعامات بھی دیے جاتے رہے۔جن میں ممبران صوبائی اسمبلی اور ممبران قومی اسمبلی کو مدعو کیا جاتا تھا ۔گزشتہ برس بھی ــ’’چیف منسٹر مقابلہ جات 2018 ‘‘ کے نام سے پنجاب بھرکے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے مابین مقابلہ جات کرائے گئے جن میں طلبا وطالبات نے ناصرف ذوق وشوق سے شرکت کی بلکہ بھرپور محنت سے پوزیشنیں بھی حاصل کیں۔

یہ مقابلہ جات کیونکہ حالیہ عام انتخابات سے قبل منعقد ہوئے اس لیے سابقہ حکومت نے نوجوانوں کی کشش کے لیے پرکشش نقد انعامات کا اعلان کیا ۔تاکہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے بارے میں اچھا تاثر قائم کیا جاسکے ۔اس لیے ضلع کی سطح پرتیسری پوزیشن کے لیے 5000 روپے، دوسری پوزیشن کے لیے 10,000 روپے اور پہلی پوزیشن کے لیے 15,000 روپے ،ڈویژن کی سطح پر تیسری پوزیشن کے لیے 20,000 روپے ، دوسری پوزیشن کے لیے 30,000 روپے اور پہلی پوزیشن کے لیے 40,000روپے اور صوبائی سطح پر تیسری پوزیشن کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے ، دوسری پوزیشن کے لیے دو لاکھ روپے اور پہلی پوزیشن کے لیے اڑھائی لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا۔

مارچ 2018 میں یہ مقابلہ جات مکمل ہوئے اور اس کے بعد ان پوزیشن ہولڈر طلبا وطالبات کو انتظار تھا کہ شاندار تقریبات منعقد کرکے ان کو اعلان کردہ انعامات سے بھی نوازا جائے گا ۔مگرافسوس صد افسوس کہ ان کا یہ انتطار آج تک جاری ہے۔سابقہ پنجاب حکومت نے کیونکہ ان انعامات کا اعلان کیا تھا چنانچہ ان کو یہ انعامات پوزیشن ہولڈر طلباو طالبات تک پہنچانا چاہیے تھے مگر انھوں نے ایسا نہ کیا۔اگر وہ یہ انعامات نہیں دے سکتے تھے تو انھیں ان انعامات کاا علان ہی نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن جب ان کا اعلان کردیا گیا تو ان تمام پوزیشن ہولڈر طلبا وطالبات کو یہ انعامات دینابھی ضروری تھے۔دوسرے لفظوں میں ان مستقبل کے معماروں کی حق تلفی کی گئی۔

گزشتہ حکومت نے تو ایسا کردیا مگر اب وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بن گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف سے پاکستان کے نوجوانوں نے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کررکھی ہیں ۔ چنانچہ وزیر اعظم عمران خان اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر مستقبل کے ان معماروں سے ہونے والی حق تلفی کا مداوا کریں اور جن انعامات کا اعلان کیا گیا تھا وہ ان پوزیشن ہولڈر طلباو طالبات تک پہنچائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ مستقبل میں بھی ان ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔کیونکہ میری معلومات کے مطابق ان طلباو طالبات نے پنجاب کے مختلف شہروں میں پر امن احتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے۔

12 اکتوبر کو جہلم، 13اکتوبر کو راولپنڈی اور 14اکتوبر کو اسلام آباد میں یہ پوزیشن ہولڈر طلبا وطالبات احتجاج کریں گے۔وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین ،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کو اس جانب فوری توجہ دے کر اس معاملے کو حل کرنا ہوگا ۔

[email protected]
03349001281

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.