سیاست سیاستدان اور اختلاف رائے — تحریر:- سندس سیدہ‎

0

دو اہم سیاسی جماعت کے جیالے آپس میں ایسے لڑ رہے ہیں جیسے انکو اپنے لیڈر کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اگر مخالف جماعت کی تذلیل کرنے کے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا تو خدا نہ خواستہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے گا۔

معصوم جیالے چند باتیں سمجھ لیں تو آسانی ہو جائے گی۔ ایک تو یہ کہ نواز اور مریم کی بلا ثبوت بے گناہی کے دعوے نہ کریں۔۔۔۔ کم سے کم آج کی تاریخ میں دونوں مجرم ہیں۔

دوسری بات یہ کہ انکو مجرم عدالت نے قرار دیا ہے کسی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت یا ادارے نے نہیں۔ ایک اور اہم
بات کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان اگر کہیں پر امن احتجاج کرتے ہیں تو یہ انکا حق ہے۔وہ کوئی ظلم نہیں کر رہے۔

تیسری بات یہ کہ نواز کوئی بہادری کا کام نہیں کر رہا سیاست دان ہے سیاست کر رہا ہے۔۔۔۔ اپیل دائر کرنے کے لیے اسکو واپس آنا تھا اور سیاسی کیرئیر میں جتنی دفعہ بھاگ چکا ہے اگر اب بھاگتا تو اسکی بیٹی کی موروثی سیاست خطرہ میں تھی۔

مزید یہ کہ جو دوسروں کے بھاگنے اور انکے نہ پکڑے جانے کی باتیں کر رہے ہیں وہ کم سے کم ایک مجرم کے پکڑے جانے پر تو بلا جواز باتیں نہ کریں ایک مجرم کو مجرم سمجھیں۔ باقیوں کی باری کا انتظار کریں

سب سے اہم بات کہ اگر یہ اسٹبلشمنٹ کی سازش سمجھ رہے ہیں تو دودھ میں سے مکھی کی طرح یا مکھن سے بال کی طرح کسی کو نکالنا مشکل نہ ہوتا ۔۔۔۔اگر ڈھیل مل گئی ہے تو یہ وقت مت بھولیں۔

ایک بات مزید یاد رکھیں کہ کسی بھی جماعت کو سپورٹ کرنا اسکو ووٹ دینا ذاتی بنیادی جمہوری ذمہ داری اور حق ہے ۔۔۔۔ بھائی کی جماعت کی طرح دھونس اور زبردستی نہ کریں کہ کوئی آپکی جماعت کو سپورٹ کرے۔

اختلاف رائے سب کا حق ہے۔ اس پوسٹ سے یا کسی دوسرے سے لیکن اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر۔

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.